آنکھوں سے دور صبح کے تارے چلے گئے

شکیل بدایونی

آنکھوں سے دور صبح کے تارے چلے گئے

شکیل بدایونی

MORE BYشکیل بدایونی

    آنکھوں سے دور صبح کے تارے چلے گئے

    نیند آ گئی تو غم کے نظارے چلے گئے

    دل تھا کسی کی یاد میں مصروف اور ہم

    شیشے میں زندگی کو اتارے چلے گئے

    اللہ رے بے خودی کہ ہم ان کے ہی رو بہ رو

    بے اختیار انہی کو پکارے چلے گئے

    مشکل تھا کچھ تو عیش کی بازی کا جیتنا

    کچھ جیتنے کے خوف سے ہارے چلے گئے

    ناکامئ حیات کا کرتے بھی کیا گلہ

    دو دن گزارنا تھے گزارے چلے گئے

    ترغیب ترک شوق کے پردے میں غم گسار

    ہر نقش آرزو کو ابھارے چلے گئے

    پہنچائی کس نے دعوت مے اہل زہد کو

    شاید تری نظر کے اشارے چلے گئے

    وہ دل حریف جلوۂ-فردوس بن گیا

    جس دل میں تیرے غم کے شرارے چلے گئے

    ان کے بغیر زیست بہ ہر حال زیست تھی

    جیسی گزارنی تھی گزارے چلے گئے

    جلوے کہاں جو ذوق تماشا نہیں شکیلؔ

    نظریں چلی گئیں تو نظارے چلے گئے

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Shakiil Badaayuuni (Pg. 549)
    • Author : Shakiil Badaayuuni
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY