آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں

جواد شیخ

آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں

جواد شیخ

MORE BYجواد شیخ

    آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں

    لیکن ایسا تو نہ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں

    آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے مگر

    اس تعلق میں اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں

    میں کسی طرح بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا

    یا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیے یا کچھ بھی نہیں

    کیسے جانا ہے کہاں جانا ہے کیوں جانا ہے

    ہم کہ چلتے چلے جاتے ہیں پتا کچھ بھی نہیں

    ہائے اس شہر کی رونق کے میں صدقے جاؤں

    ایسی بھرپور ہے جیسے کہ ہوا کچھ بھی نہیں

    پھر کوئی تازہ سخن دل میں جگہ کرتا ہے

    جب بھی لگتا ہے کہ لکھنے کو بچا کچھ بھی نہیں

    اب میں کیا اپنی محبت کا بھرم بھی نہ رکھوں

    مان لیتا ہوں کہ اس شخص میں تھا کچھ بھی نہیں

    میں نے دنیا سے الگ رہ کے بھی دیکھا جوادؔ

    ایسی منہ زور اداسی کی دوا کچھ بھی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY