آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھے

جگر مراد آبادی

آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھے

جگر مراد آبادی

MORE BYجگر مراد آبادی

    آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھے

    اب تم ملے تو کچھ نہیں اپنی خبر مجھے

    دل لے کے مجھ سے دیتے ہو داغ جگر مجھے

    یہ بات بھولنے کی نہیں عمر بھر مجھے

    ہر سو دکھائی دیتے ہیں وہ جلوہ گر مجھے

    کیا کیا فریب دیتی ہے میری نظر مجھے

    ملتی نہیں ہے لذت درد جگر مجھے

    بھولی ہوئی نہ ہو نگہ فتنہ گر مجھے

    ڈالا ہے بے خودی نے عجب راہ پر مجھے

    آنکھیں ہیں اور کچھ نہیں آتا نظر مجھے

    کرنا ہے آج حضرت ناصح سے سامنا

    مل جائے دو گھڑی کو تمہاری نظر مجھے

    مستانہ کر رہا ہوں رہ عاشقی کو طے

    لے جائے جذب شوق مرا اب جدھر مجھے

    ڈرتا ہوں جلوۂ رخ جاناں کو دیکھ کر

    اپنا بنا نہ لے کہیں میری نظر مجھے

    یکساں ہے حسن و عشق کی سر مستیوں کا رنگ

    ان کی خبر انہیں ہے نہ میری خبر مجھے

    مرنا ہے ان کے پاؤں پہ رکھ کر سر نیاز

    کرنا ہے آج قصۂ غم مختصر مجھے

    سینے سے دل عزیز ہے دل سے ہو تم عزیز

    سب سے مگر عزیز ہے تیری نظر مجھے

    میں دور ہوں تو روئے سخن مجھ سے کس لیے

    تم پاس ہو تو کیوں نہیں آتے نظر مجھے

    کیا جانئے قفس میں رہے کیا معاملہ

    اب تک تو ہیں عزیز مرے بال و پر مجھے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اقبال بانو

    اقبال بانو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY