اب ترا ہجر مسلسل نہیں کاٹا جاتا
اب ترا ہجر مسلسل نہیں کاٹا جاتا
کاٹا جاتا ہے مکمل نہیں کاٹا جاتا
نوچ ڈالے گی یہ شیشم سے بدن کو دیمک
اس سفر کو کبھی پیدل نہیں کاٹا جاتا
کچھ نشانی بڑے بوڑھوں کی سلامت رکھو
نیم برگد یا ہو پیپل نہیں کاٹا جاتا
جو ملا ہے اسے تم رب کہ عنایت سمجھو
ٹاٹ کی چاہ میں مخمل نہیں کاٹا جاتا
اب سمندر سے نکالو کوئی رستہ تم لوگ
پیڑوں سے عشق ہے جنگل نہیں کاٹا جاتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.