ابر ہوں اور برسنے کو بھی تیار ہوں میں

رفیق راز

ابر ہوں اور برسنے کو بھی تیار ہوں میں

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    ابر ہوں اور برسنے کو بھی تیار ہوں میں

    تجھ کو سیراب کروں گا کہ دھواں دھار ہوں میں

    اب تو کچھ اور ہی خطرات سے دو چار ہوں میں

    اپنے ہی سر پہ لٹکتی ہوئی تلوار ہوں میں

    تب میں اک آنکھ تھا جب تو کوئی منظر بھی نہ تھا

    آج تصویر ہے تو نقش بہ دیوار ہوں میں

    ہجر کے بعد کے منظر کا کنایہ ہوں کوئی

    اک دھواں سا پس دیوار شب تار ہوں میں

    میرا سرمایہ تو بس منظر بے منظری ہے

    شہر بے عکس کا اک آئینہ بردار ہوں میں

    ڈال کے سر کو گریباں میں لرز اٹھتا ہوں

    مٹھی بھر خاک نہیں ایک سیہ غار ہوں میں

    دیکھ شامل ہی نہیں اس میں کوئی میرے سوا

    دیکھ کس قافلۂ ذات کا سالار ہوں میں

    بس یہی ہے مرے ہونے کا جواز اور سراغ

    اک نہ ہونے سے میاں بر سر پیکار ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے