اگر غفلت سے باز آیا جفا کی

مومن خاں مومن

اگر غفلت سے باز آیا جفا کی

مومن خاں مومن

MORE BYمومن خاں مومن

    اگر غفلت سے باز آیا جفا کی

    تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی

    مرے آغاز الفت میں ہم افسوس

    اسے بھی رہ گئی حسرت جفا کی

    کبھی انصاف ہی دیکھا نہ دیدار

    قیامت اکثر اس کو میں رہا کی

    فلک کے ہاتھ سے میں جا چھپوں گر

    خبر لا دے کوئی تحت الثرا کی

    شب وصل عدو کیا کیا جلا ہوں

    حقیقت کھل گئی روز جزا کی

    چمن میں کوئی اس کو سے نہ آیا

    گئی برباد سب محنت صبا کی

    کشاد دل پہ باندھی ہے کمر آج

    نہیں ہے خیریت بند قبا کی

    کیا جب التفات اس نے ذرا سا

    پڑی ہم کو حصول مدعا کی

    کہا ہے غیر نے تم سے مرا حال

    کہے دیتی ہے بے باکی ادا کی

    تمہیں شور فغاں سے میرے کیا کام

    خبر لو اپنی چشم سرمہ سا کی

    دیا علم و ہنر حسرت کشی کو

    فلک نے مجھ سے یہ کیسی دغا کی

    غم مقصد رسی تا نزع اور ہم

    اب آئی موت بخت نارسا کی

    مجھے اے دل تری جلدی نے مارا

    نہیں تقصیر اس دیر آشنا کی

    جفا سے تھک گئے تو بھی نہ پوچھا

    کہ تو نے کس توقع پر وفا کی

    کہا اس بت سے مرتا ہوں تو مومنؔ

    کہا میں کیا کروں مرضی خدا کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY