اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے

اختر شیرانی

اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے

اختر شیرانی

MORE BYاختر شیرانی

    اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے

    تو ذرے کو ماہتاب اور ماہتاب کو آفتاب کر دے

    تری محبت کی وادیوں میں مری جوانی سے دور کیا ہے

    جو سادہ پانی کو اک نشیلی نظر میں رنگیں شراب کر دے

    حریم عشرت میں سونے والے شمیم گیسو کی مستیوں سے

    مری جوانی کی سادہ راتوں کو اب تو سرشار خواب کر دے

    مزے وہ پائے ہیں آرزو میں کہ دل کی یہ آرزو ہے یا رب

    تمام دنیا کی آرزوئیں مرے لیے انتخاب کر دے

    نظر نا آنے پہ ہے یہ حالت کہ جنگ ہے شیخ و برہمن میں

    خبر نہیں کیا سے کیا ہو دنیا جو خود کو وہ بے نقاب کر دے

    مرے گناہوں کی شورشیں اس لیے زیادہ رہی ہیں یا رب

    کہ ان کی گستاخیوں سے تو اپنے عفو کو بے حساب کر دے

    خدا نہ لائے وہ دن کہ تیری سنہری نیندوں میں فرق آئے

    مجھے تو یوں اپنے ہجر میں عمر بھر کو بیزار خواب کر دے

    میں جان و دل سے تصور حسن دوست کی مستیوں کے قرباں

    جو اک نظر میں کسی کے بے کیف آنسوؤں کو شراب کر دے

    عروس فطرت کا ایک کھویا ہوا تبسم ہے جس کو اخترؔ

    کہیں وہ چاہے شراب کر دے کہیں وہ چاہے شباب کر دے

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Akhtar shirani (Pg. 262)
    • Author : Gopal Mittal
    • مطبع : Modern Publishing House (1997)
    • اشاعت : 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY