اگرچہ مصلحت آمیز ہی ہے

نفیسہ سلطانہ انا

اگرچہ مصلحت آمیز ہی ہے

نفیسہ سلطانہ انا

MORE BYنفیسہ سلطانہ انا

    اگرچہ مصلحت آمیز ہی ہے

    کڑے لہجے سے بہتر خامشی ہے

    نظر کی پیاس تو نظروں سے پوچھو

    ہیں زیر آب پھر بھی تشنگی ہے

    وہی چھوتے ہیں اکثر آسماں کو

    جبیں جن کی زمینوں پر جھکی ہے

    ورق آہستگی سے کھولیے گا

    بہت خستہ کتاب زندگی ہے

    مراسم پہلے بھی اچھے نہیں تھے

    مگر اب تو دلوں میں بے دلی ہے

    مری بے چارگی پر ہنس رہا ہے

    یہ میرا دوست ہے یا اجنبی ہے

    تری سرگوشیوں کا یہ اثر ہے

    انا میں رچ گئی اک نغمگی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY