اہل محبت کی مجبوری بڑھتی جاتی ہے

افتخار عارف

اہل محبت کی مجبوری بڑھتی جاتی ہے

افتخار عارف

MORE BY افتخار عارف

    اہل محبت کی مجبوری بڑھتی جاتی ہے

    مٹی سے گلاب کی دوری بڑھتی جاتی ہے

    محرابوں سے محل سرا تک ڈھیروں ڈھیر چراغ

    جلتے جاتے ہیں بے نوری بڑھتی جاتی ہے

    کاروبار میں اب کے خسارہ اور طرح کا ہے

    کام نہیں بڑھتا مزدوری بڑھتی جاتی ہے

    جیسے جیسے جسم تشفی پاتا جاتا ہے

    ویسے ویسے قلب سے دوری بڑھتی جاتی ہے

    گریۂ نیم شبی کی نعمت جب سے بحال ہوئی

    ہر لحظہ امید حضوری بڑھتی جاتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY