عجیب شخص تھا شیشے کا گھر بنائے ہوئے
عجیب شخص تھا شیشے کا گھر بنائے ہوئے
جہاں کہ راہ میں پتھر بھی تھے بچھائے ہوئے
بتاؤں درد کہ سوزش خلش بتاؤں کیا
یہ آگ شوق ہے میں جس کو ہوں لگائے ہوئے
وہ پڑھ رہا ہے مسلسل یہ نقش تحریریں
جہاں تہاں جو کہیں رہ گئے مٹائے ہوئے
کسی کی یاد سے دل اپنا بھی منور تھا
چراغ عزم کی لو میں بھی تھا بڑھائے ہوئے
اداس صحن کو چوکھٹ کو گدگدائے کون
انیسؔ عرصہ ہوا گھر کو مسکرائے ہوئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.