عکس پر یوں آنکھ ڈالی جائے گی

ریاضؔ خیرآبادی

عکس پر یوں آنکھ ڈالی جائے گی

ریاضؔ خیرآبادی

MORE BY ریاضؔ خیرآبادی

    عکس پر یوں آنکھ ڈالی جائے گی

    سامنے کی چوٹ خالی جائے گی

    یہ قیامت بھی نکالی جائے گی

    اس گلی سے کھا کے گالی جائے گی

    کعبے میں بوتل کھلے موقع کہاں

    زمزمی سے آج ڈھالی جائے گی

    گل تو کیا ہیں تا قفس اے باد تند

    پتہ پتہ ڈالی ڈالی جائے گی

    بزم ساقی میں اگر لغزش ہوئی

    ہاتھ سے مے کی پیالی جائے گی

    گدگدانے کو کف پا دل کے ساتھ

    آرزوئے پائمالی جائے گی

    وا در توبہ ہے تو جلدی ہے کیا

    بات بگڑی کچھ بنا لی جائے گی

    مردہ کوئی آرزو اس دل میں ہے

    کہہ گئے وہ جان ڈالی جائے گی

    میکدے ہم گھر سے جائیں گے ریاضؔ

    ایک بوتل ساتھ خالی جائے گی

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY