امانؔ اپنی طرح آشنائے فن تو نہیں
امانؔ اپنی طرح آشنائے فن تو نہیں
نشست جاں میں کوئی اپنا ہم سخن تو نہیں
نکل کے حجرۂ تنہائی سے کسی سے عشق
تمہارے کہنے پہ کرتے ہیں اپنا من تو نہیں
برا نہ مان مگر پوچھنا تو پڑتا ہے
کہ بے وفائی کہیں تجھ میں فطرتاً تو نہیں
یہ تو نے عشق جتایا تو میں نے مان لیا
ہمارے بیچ مگر ایسا غالباً تو نہیں
قسم صبا کی یہ خوشبو ہے جانی پہچانی
گلوں کے جسم پہ تیرا ہی پیرہن تو نہیں
کیوں آج منظر شب اتنا سہما سہما ہے
کسی چراغ کی زد پر ہوا کا تن تو نہیں
ہے ٹوٹ جانے کے خدشے میں یاد کی کشتی
فرات فرقت جاں آج موجزن تو نہیں
صدائیں آتی ہیں جنگل سے آہ و زاری کی
پتہ کرو کہ پرندوں کی انجمن تو نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.