انا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

آفتاب حسین

انا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    INTERESTING FACT

    شمارہ 282،جولائی 2004

    انا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

    بلا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

    گھٹن کے دن ہوں کہ جھگڑے سے چلتے رہتے ہوں

    ہوا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

    مہکتی رہتی ہے لفظوں میں کوئی خوشبو سی

    صبا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

    وہ حال ہے کہ خموشی کلام کرتی ہے

    صدا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

    وہ ہاتھ جیسے کہیں اب بھی دل پہ رکھا ہو

    حنا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

    گرفت میں ہوں کسی بت کی آفتاب حسینؔ

    خدا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں

    مآخذ:

    • کتاب : Shabkhoon (Urdu Monthly) (Pg. 644)
    • Author : Shamsur Rahman Faruqi
    • مطبع : Shabkhoon Po. Box No.13, 313 rani Mandi Allahabad (June December 2005áIssue No. 293 To 299âPart II)
    • اشاعت : June December 2005áIssue No. 293 To 299âPart II

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY