عطا ہوئی کسے سند نظر نظر کی بات ہے

اکبر حیدرآبادی

عطا ہوئی کسے سند نظر نظر کی بات ہے

اکبر حیدرآبادی

MORE BYاکبر حیدرآبادی

    عطا ہوئی کسے سند نظر نظر کی بات ہے

    ہوا ہے کون نامزد نظر نظر کی بات ہے

    گل و ستارہ و قمر سبھی حسین ہیں مگر

    ہے کون ان میں مستند نظر نظر کی بات ہے

    اضافی اعتبار ہے تعین مقام بھی

    ہے پست بھی بلند قد نظر نظر کی بات ہے

    برے بھلے میں فرق ہے یہ جانتے ہیں سب مگر

    ہے کون نیک کون بد نظر نظر کی بات ہے

    زمیں اگرچہ بستر گل و سمن بھی ہے مگر

    کسی کو ہے یہی لحد نظر نظر کی بات ہے

    کوئی چلے تمام عمر کوئی صرف دو قدم

    کہاں ہے منزلوں کی حد نظر نظر کی بات ہے

    مآخذ
    • کتاب : Firdaus-e-Khayal (Poetry) (Pg. 30)
    • Author : Akbar Hyderabadi
    • مطبع : Nirali Duniya Publications (2002)
    • اشاعت : 2002

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY