بات بہہ جانے کی سن کر اشک برہم ہو گئے

نتن نایاب

بات بہہ جانے کی سن کر اشک برہم ہو گئے

نتن نایاب

MORE BY نتن نایاب

    بات بہہ جانے کی سن کر اشک برہم ہو گئے

    اک ذرا کوشش بھی کی تو اور پر نم ہو گئے

    یہ ہوا معمول کہ مانوس غم دل ہو گیا

    ہم سمجھ بیٹھے ہمارے درد کچھ کم ہو گئے

    کیفیت اظہار سوز دل کی کچھ ایسی ہوئی

    آتے آتے لب تلک الفاظ مبہم ہو گئے

    وقت کی چارہ گری بھی دیکھیے کیا خوب ہے

    غم دوا میں ڈھل گیا اور زخم محرم ہو گئے

    گردشوں کے ابر کی اک بوند تن پر کیا گری

    کل جو تھے شعلہ صفت وہ آج شبنم ہو گئے

    تھے ہمارے خوں کے قطرے خاک کی صورت خدا

    تیرے نقش پا کو چھو کر آب زمزم ہو گئے

    دشمنی بڑھنے کا یوں نایابؔ غم ہم کو نہیں

    ہاں مگر افسوس یہ ہے دوست کچھ کم ہو گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY