بات سورج کی کوئی آج بنی ہے کہ نہیں

رشید قیصرانی

بات سورج کی کوئی آج بنی ہے کہ نہیں

رشید قیصرانی

MORE BYرشید قیصرانی

    بات سورج کی کوئی آج بنی ہے کہ نہیں

    وہ جو اک رات مسلسل تھی کٹی ہے کہ نہیں

    تیرے ہاتھوں میں تو آئینہ وہی ہے کہ جو تھا

    سوچتا ہوں مرا چہرہ بھی وہی ہے کہ نہیں

    مجھ کو ٹکرا کے بہ ہر حال بکھرنا تھا مگر

    وہ جو دیوار سی حائل تھی گری ہے کہ نہیں

    اس کا چہرہ ہے کہ مہتاب وہ آنکھیں ہیں کہ جھیل

    بات اس بات سے آگے بھی چلی ہے کہ نہیں

    اپنے پہلو میں ہمکتے ہوئے سائے نہ سجا

    کیا خبر ان سے یہ ملنے کی گھڑی ہے کہ نہیں

    حبس چہروں پہ تو صدیوں سے مسلط ہے مگر

    کوئی آندھی بھی کسی دل میں اٹھی ہے کہ نہیں

    پوچھتا پھرتا ہوں میں بھاگتی کرنوں سے رشیدؔ

    اس بھرے شہر میں اپنا بھی کوئی ہے کہ نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Fasiil-e-lab (Pg. 128)
    • Author : Rashiid Qaisarani
    • مطبع : Aiwan-e-urdu Taimuriya karachi (1973)
    • اشاعت : 1973

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY