بدل گئی ہے کچھ ایسی ہوا زمانے کی

نظیر صدیقی

بدل گئی ہے کچھ ایسی ہوا زمانے کی

نظیر صدیقی

MORE BYنظیر صدیقی

    بدل گئی ہے کچھ ایسی ہوا زمانے کی

    کہ عام ہو گئی عادت نظر چرانے کی

    یہ بات کاش سمجھتے سبھی چمن والے

    چمن لٹا تو نہیں خیر آشیانے کی

    انہیں خبر نہیں وہ خود بھی آزمائے گئے

    جنہیں تھی فکر بہت مجھ کو آزمانے کی

    کوئی کلی نہ رہی پھر بھی مسکرائے بغیر

    سزا اگرچہ مقرر تھی مسکرانے کی

    ہوا یہی کہ وہ تکمیل تک پہنچ نہ سکا

    بہت لطیف تھی تمہید جس فسانے کی

    اک آپ ہی پہ نہیں منحصر جناب نظیرؔ

    بڑے بڑوں کو ہوا لگ گئی زمانے کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY