بدن کا تفصیلی جائزہ گھوم کر لیا ہے
بدن کا تفصیلی جائزہ گھوم کر لیا ہے
علاقہ آفت زدہ ہے معلوم کر لیا ہے
کوئی لطیفہ تھا جس میں یاروں کا ذکر آیا
اسے ہنسانا تھا خود کو مغموم کر لیا ہے
میں خوش ہوں اب نام ہو گا فہرست اہل غم میں
جبھی بچھڑنے کا فیصلہ جھوم کر لیا ہے
سند رہے تاکہ اور ضرورت کے وقت کام آئے
تمام تر اضطراب منظوم کر لیا ہے
یہ کون شوقین ہے خلا کے مشاہدے کا
مری طرف کس نے کیمرا زوم کر لیا ہے
بدن میں صرف ایک کی جگہ تھی سو میں نے خود کو
تمہاری موجودگی میں معدوم کر لیا ہے
زبان سی لو نکال کر منہ چڑھا رہا تھا
ہوا نے بدلہ چراغ کو چوم کر لیا ہے
- کتاب : آخری تصویر (Pg. 88)
- Author : عمیر نجمی
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2024)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.