بڑی مشکل کہانی تھی مگر انجام سادہ ہے

ذوالفقار عادل

بڑی مشکل کہانی تھی مگر انجام سادہ ہے

ذوالفقار عادل

MORE BYذوالفقار عادل

    بڑی مشکل کہانی تھی مگر انجام سادہ ہے

    کہ اب اس شخص کا ہم سے بچھڑنے کا ارادہ ہے

    اور اس کے بعد اک ایسے ہی لمحے تک ہے خاموشی

    ہمیں در پیش پھر سے لمحۂ تجدید وعدہ ہے

    سنو رستے میں اک جلتا ہوا صحرا بھی آئے گا

    کہو کب تک ہمارے ساتھ چلنے کا ارادہ ہے

    ہمیں آسانیوں سے پیار تھا اور لوگ کہتے تھے

    اگر منزل سے ہٹ جائیں تو ہر رستہ کشادہ ہے

    ستارہ در ستارہ ٹوٹتا ہے آسماں تو بھی

    ترے قصے میں بھی میری کہانی کا اعادہ ہے

    میں ہوں نا معتبر منزل کی خاطر معتبر رہ پر

    وجود خواہش جاں پر دعاؤں کا لبادہ ہے

    کچھ ایسی شدتوں سے ہم گزر کر آئے ہیں عادلؔ

    ہمیں تیری ضرورت بھی ضرورت سے زیادہ ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Beesveen Sadi Ki Behtareen Ishqiya Ghazlen (Pg. 92)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY