بے کراں دریا ہوں غم کا اور طغیانی میں ہوں

حمید نسیم

بے کراں دریا ہوں غم کا اور طغیانی میں ہوں

حمید نسیم

MORE BY حمید نسیم

    بے کراں دریا ہوں غم کا اور طغیانی میں ہوں

    سب حدیں ہیں پھر بھی قائم کب سے حیرانی میں ہوں

    شب کی تنہائی میں مجھ کو ایسا لگتا ہے کبھی

    میں ہوں روح زندگی گو پیکر فانی میں ہوں

    جگمگاتی محفل افلاک میرا عکس ذات

    لو میں ہوں انجم کی میں سورج کی تابانی میں ہوں

    صبحگاہاں دشت و گلشن میں نسیم نرم موج

    بیچ دریا کے بھنور ہوں اور جولانی میں ہوں

    شمع بزم دلبراں ہے میری دل سوزی کی ضو

    میں دل عاشق کے خوابوں کی گل افشانی میں ہوں

    لوگ کیوں اس شہر کے اتنے پریشاں حال ہیں

    میں کہ خوش دل تھا سدا کا اس پریشانی میں ہوں

    میں کہ ہوں اک خوش فہم سادہ لوح طفل پیر سال

    اور پھر ضدی بھی ہوں خوش اپنی نادانی میں ہوں

    کیا خبر میرا سفر ہے اور کتنی دور کا

    کاغذی اک ناؤ ہوں اور تیز رو پانی میں ہوں

    حسن کل کا آرزو مند اس تنک جانی میں ہوں

    میرے قد سے جو بہت اونچا ہے اس پانی میں ہوں

    مآخذ:

    • کتاب : Urdu Quarterly BADBAAN (Pg. 116)
    • Author : Nasir Bagdadi
    • مطبع : E-2, 8/14, Mayar Square, Block No.14 Gulshane-e-Iqbal (Oct. - Dec. 2002,Issue No 8)
    • اشاعت : Oct. - Dec. 2002,Issue No 8

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY