بیداری خوابوں کو بھاری پڑتی ہے

معین شاداب

بیداری خوابوں کو بھاری پڑتی ہے

معین شاداب

MORE BYمعین شاداب

    بیداری خوابوں کو بھاری پڑتی ہے

    سوتا ہوں تو رات اکیلی پڑتی ہے

    رشتے کی یہ حد ہے آگے مت بڑھنا

    اس کے آگے چکنی مٹی پڑتی ہے

    سستے لوگوں سے ملنے میں گھاٹا ہے

    ان لوگوں کی یاری مہنگی پڑتی ہے

    پہلے ایک دوا خانہ پھر قبرستان

    اس کے بعد ہماری بستی پڑتی ہے

    پہلے سگریٹ باپ سے چھپ کر پیتے تھے

    اب بیٹے سے چھپ کر پینی پڑتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY