کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے

فیض انور

کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے

فیض انور

MORE BYفیض انور

    کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے

    تو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے

    جاگتے جاگتے اک عمر کٹی ہو جیسے

    جان باقی ہے مگر سانس رکی ہو جیسے

    ہر ملاقات پہ محسوس یہی ہوتا ہے

    مجھ سے کچھ تیری نظر پوچھ رہی ہو جیسے

    راہ چلتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا ہے

    وہ نظر چھپ کے مجھے دیکھ رہی ہو جیسے

    ایک لمحے میں سمٹ آیا ہے صدیوں کا سفر

    زندگی تیز بہت تیز چلی ہو جیسے

    اس طرح پہروں تجھے سوچتا رہتا ہوں میں

    میری ہر سانس ترے نام لکھی ہو جیسے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY