بھائی کو بھائی سے عداوت ہے
بھائی کو بھائی سے عداوت ہے
دیش کیسے مرا سلامت ہے
مے کشی تو گناہ ہے لیکن
ذہن و دل میں بھی کچھ بغاوت ہے
آپ خود کو عظیم کہتے ہیں
میں سمجھتا ہوں یہ حماقت ہے
روشنی جو کبھی لٹاتے تھے
جگنوؤں کی انہیں ضرورت ہے
ہر نفس اک حسین ہے پیاسا
ہر قدم پر کوئی شہادت ہے
جھوٹ اور سچ کا فیصلہ کیا ہو
سیم و زر کی دکاں عدالت ہے
- مطبع : بسمل عارفی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.