بکتی نہیں فقیر کی جھولی ہی کیوں نہ ہو

رؤف خیر

بکتی نہیں فقیر کی جھولی ہی کیوں نہ ہو

رؤف خیر

MORE BYرؤف خیر

    بکتی نہیں فقیر کی جھولی ہی کیوں نہ ہو

    چاہے رئیس شہر کی بولی ہی کیوں نہ ہو

    احسان رنگ غیر اٹھاتے نہیں کبھی

    اپنے لہو سے کھیل وہ ہولی ہی کیوں نہ ہو

    سچ تو یہ ہے کہ ہاتھ نہ آنا کمال ہے

    دنیا سے کھیل آنکھ مچولی ہی کیوں نہ ہو

    ہے آسماں وسیع زمیں تنگ ہی سہی

    تعمیر کر کہیں کوئی کھولی ہی کیوں نہ ہو

    حق پر جو ہے وہی سر و شانہ بلند ہے

    ہے ورنہ بے بساط وہ ٹولی ہی کیوں نہ ہو

    دریا کی کیا بساط کہ مجھ کو ڈبو سکے

    کشتی کہیں کہیں مری ڈولی ہی کیوں نہ ہو

    تلخی میں بھی مزہ ہے جو تو خوش مذاق ہے

    پک جائے تو بھلی ہے نمولی ہی کیوں نہ ہو

    کچھ تو حدیث خیرؔ سمجھنے کے کر جتن

    ہر چند بے مزہ مری بولی ہی کیوں نہ ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY