بوسہ لیا جو چشم کا بیمار ہو گئے

حیرت الہ آبادی

بوسہ لیا جو چشم کا بیمار ہو گئے

حیرت الہ آبادی

MORE BYحیرت الہ آبادی

    بوسہ لیا جو چشم کا بیمار ہو گئے

    زلفیں چھوئیں بلا میں گرفتار ہو گئے

    سکتہ ہے بیٹھے سامنے تکتے ہیں ان کی شکل

    کیا ہم بھی عکس آئینۂ یار ہو گئے

    بیٹھے تمہارے در پہ تو جنبش تلک نہ کی

    ایسے جمے کہ سایۂ دیوار ہو گئے

    ہم کو تو ان کے خنجر ابرو کے عشق میں

    دن زندگی کے کاٹنے دشوار ہو گئے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    بوسہ لیا جو چشم کا بیمار ہو گئے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY