چاند سے اپنی یاری تھی

عابد مناوری

چاند سے اپنی یاری تھی

عابد مناوری

MORE BYعابد مناوری

    چاند سے اپنی یاری تھی

    ظلمت بھی اجیالی تھی

    چیخ تھی دل کے گنبد میں

    ہونٹوں پر خاموشی تھی

    ایک انوکھا انوبھو تھا

    گھڑی ملن کی نیاری تھی

    ٹوٹی کشتی پتھر ریت

    سامنے سوکھی ندی تھی

    دن میں تارے دیکھے تھے

    انہونی بھی ہونی تھی

    ساحل پر تھی آگ ہی آگ

    دریا میں طغیانی تھی

    حد نظر تک صحرا تھا

    سر پر دھوپ بلا کی تھی

    لفظ تھے سب پایاب مگر

    بات نہایت گہری تھی

    عابدؔ نا ممکن تھی جیت

    وقت کی چال ہی ایسی تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY