چاندنی چھٹکی ہوئی ہو تو غزل ہوتی ہے

ریاست علی تاج

چاندنی چھٹکی ہوئی ہو تو غزل ہوتی ہے

ریاست علی تاج

MORE BY ریاست علی تاج

    چاندنی چھٹکی ہوئی ہو تو غزل ہوتی ہے

    جل پری پاس کھڑی ہو تو غزل ہوتی ہے

    دل نشیں کوئی نظارہ کوئی دل کش منظر

    بات دلچسپ کوئی ہو تو غزل بنتی ہے

    یا کسی درد میں ڈوبی ہوئی آواز نحیف

    یا کوئی چیخ سنی ہو تو غزل ہوتی ہے

    شاعری نام ہے احساس کے لو پانے کا

    آگ سی دل میں دبی ہو تو غزل ہوتی ہے

    کوئی کھلتا ہوا چہرا کوئی غنچہ کوئی پھول

    آنکھ سیراب ہوئی ہو تو غزل ہوتی ہے

    درمیاں آپ کے میرے کوئی حائل ہو جائے

    کوئی دیوار کھڑی ہو تو غزل ہوتی ہے

    کوئی جدت کوئی ندرت کوئی پاکیزہ خیال

    ہاں کوئی بات نئی ہو تو غزل ہوتی ہے

    پہلے شاعر کو ملے ذہن رسا قلب گداز

    پھر وہ لفظوں کا دھنی ہو تو غزل ہوتی ہے

    عام حالات میں ہوتی نہیں اے تاجؔ غزل

    کچھ نہ کچھ درد سری ہو تو غزل ہوتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY