چاندنی رات میں اک بار اسے دیکھا تھا

رفیق راز

چاندنی رات میں اک بار اسے دیکھا تھا

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    چاندنی رات میں اک بار اسے دیکھا تھا

    چاند سے بر سر پیکار اسے دیکھا تھا

    مثل خورشید نمودار وہ اب تک نہ ہوا

    آخری بار سر غار اسے دیکھا تھا

    میں بھلا کیسے بیاں کرتا سراپا اس کا

    شب یلدا پس دیوار اسے دیکھا تھا

    دل میں اتری ہی نہ تھی روشنی اس منظر کی

    اولیں بار تو بے کار اسے دیکھا تھا

    لوگ کیوں کوہ و بیاباں میں اسے ڈھونڈتے ہیں

    میں نے تو بر سر بازار اسے دیکھا تھا

    اس نے کیا رات کو دیکھا تھا یہ معلوم نہیں

    میں نے تو نقش بہ دیوار اسے دیکھا تھا

    اس کی آنکھوں میں چمک خواب کی یہ کیسی ہے

    رات بھر چرخ نے بیدار اسے دیکھا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے