چلنے لگے نہ ہجر کی آندھی کتاب میں
چلنے لگے نہ ہجر کی آندھی کتاب میں
تحریر کر نہ مجھ کو ہوا کی کتاب میں
وہ چہرہ انہماک سے پڑھ تو لیا مگر
گم ہو گئی ہے آنکھ کی پتلی کتاب میں
اک موج رنگ اب بھی رواں کاغذوں پہ ہے
اک روز رکھ گیا تھا وہ تتلی کتاب میں
میں اس کا انتظار کروں گا تمام عمر
وہ رکھ کے بھول جائے گا چٹھی کتاب میں
میری طرح لکھے تو لہو سے غزل کوئی
رکھے تو کوئی کاٹ کے انگلی کتاب میں
بیدلؔ در کلیسائے مضموں نہ بند کر
بجنے دے حرف و صوت کی گھنٹی کتاب میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.