چند الجھی ہوئی سانسوں کی عطا ہوں کیا ہوں

اختر سعید خان

چند الجھی ہوئی سانسوں کی عطا ہوں کیا ہوں

اختر سعید خان

MORE BYاختر سعید خان

    چند الجھی ہوئی سانسوں کی عطا ہوں کیا ہوں

    میں چراغ تہ دامان صبا ہوں کیا ہوں

    ہر نفس ہے مرا پروردۂ آغوش بلا

    اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا ہوں کیا ہوں

    مجھ پہ کھلتا ہی نہیں میرا ستم دیدہ وجود

    کوئی پتھر ہوں کہ گم کردہ صدا ہوں کیا ہوں

    دل میں ہوں اور زباں پر کبھی آتا بھی نہیں

    میں کوئی بھولا ہوا حرف دعا ہوں کیا ہوں

    میں سفر میں ہوں مگر سمت سفر کوئی نہیں

    کیا میں خود اپنا ہی نقش کف پا ہوں کیا ہوں

    میں نے دیکھا ہی نہیں جاگتی آنکھوں سے کبھی

    کوئی عقدہ ہوں کہ خود عقدہ کشا ہوں کیا ہوں

    پوچھتا ہے مرا پیراہن ہستی مجھ سے

    میں قبا ہوں کہ فقط بند قبا ہوں کیا ہوں

    دل کی اور میری زباں ایک ہے پھر بھی اخترؔ

    لفظ و معنی کی پر اسرار فضا ہوں کیا ہوں

    مآخذ:

    • کتاب : Mujalla Dastavez (Pg. 292)
    • Author : Aziz Nabeel
    • مطبع : Edarah Dastavez (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY