چہرہ اداس اداس تھا میلا لباس تھا

مجید امجد

چہرہ اداس اداس تھا میلا لباس تھا

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    چہرہ اداس اداس تھا میلا لباس تھا

    کیا دن تھے جب خیال تمنا لباس تھا

    عریاں زمانہ گیر شررگوں جبلتیں

    کچھ تھا تو ایک برگ دل ان کا لباس تھا

    اس موڑ پر ابھی جسے دیکھا ہے کون تھا

    سنبھلی ہوئی نگاہ تھی سادہ لباس تھا

    یادوں کے دھندلے دیس کھلی چاندنی میں رات

    تیرا سکوت کس کی صدا کا لباس تھا

    ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں پرکھا تو ان کی روح

    بے پیرہن تھی جسم سراپا لباس تھا

    صدیوں کے گھاٹ پر بھرے میلوں کی بھیڑ میں

    اے درد شادماں ترا کیا کیا لباس تھا

    دیکھا تو دل کے سامنے سایوں کے جشن میں

    ہر عکس آرزو کا انوکھا لباس تھا

    امجدؔ قبائے شہ تھی کہ چولا فقیر کا

    ہر بھیس میں ضمیر کا پردا لباس تھا

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyaat-e-majiid Amjad (Pg. 371)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY