چپ چاپ سلگتا ہے دیا تم بھی تو دیکھو

بشر نواز

چپ چاپ سلگتا ہے دیا تم بھی تو دیکھو

بشر نواز

MORE BYبشر نواز

    چپ چاپ سلگتا ہے دیا تم بھی تو دیکھو

    کس درد کو کہتے ہیں وفا تم بھی تو دیکھو

    مہتاب بکف رات کسے ڈھونڈ رہی ہے

    کچھ دور چلو آؤ ذرا تم بھی تو دیکھو

    کس طرح کناروں کو ہے سینے سے لگائے

    ٹھہرے ہوئے پانی کی ادا تم بھی تو دیکھو

    یادوں کے سمن زار سے آئی ہوئی خوشبو

    دامن میں چھپا لائی ہے کیا تم بھی تو دیکھو

    کچھ رات گئے روز جو آتی ہے فضا سے

    ہر دل میں ہے اک زخم چھپا تم بھی تو دیکھو

    ہر ہنستے ہوئے پھول سے رشتہ ہے خزاں کا

    ہر دل میں ہے اک زخم چھپا تم بھی تو دیکھو

    کیوں آنے لگیں سانس میں گہرائیاں سوچو

    کیوں ٹوٹ چلے بند قبا تم بھی تو دیکھو

    مآخذ
    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 504)
    • Author : shahzaad ahmad
    • مطبع : Ali Printers, 19-A Abate Road, Lahore (1988)
    • اشاعت : 1988

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY