ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو

مجروح سلطانپوری

ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو

مجروح سلطانپوری

MORE BYمجروح سلطانپوری

    ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو

    یہی تو ہیں جو ڈبویا کیے سفینوں کو

    جمال صبح دیا روئے نو بہار دیا

    مری نگاہ بھی دیتا خدا حسینوں کو

    ہماری راہ میں آئے ہزار مے خانے

    بھلا سکے نہ مگر ہوش کے قرینوں کو

    کبھی نظر بھی اٹھائی نہ سوئے بادۂ ناب

    کبھی چڑھا گئے پگھلا کے آبگینوں کو

    یہی جہاں ہے جہنم یہی جہاں فردوس

    بتاؤ عالم بالا کے سیربینوں کو

    ہوئے ہیں قافلے ظلمت کی وادیوں میں رواں

    چراغ راہ کیے خونچکاں جبینوں کو

    تجھے نہ مانے کوئی تجھ کو اس سے کیا مجروحؔ

    چل اپنی راہ بھٹکنے دے نکتہ چینوں کو

    مأخذ :
    • کتاب : غزل اس نے چھیڑی-6 (Pg. 139)
    • Author : فرحت احساس
    • مطبع : ریختہ بکس ،بی۔37،سیکٹر۔1،نوئیڈا،اترپردیش۔201301 (2019)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY