دولت درد سمیٹو کہ بکھرنے کو ہے

یاسمین حمید

دولت درد سمیٹو کہ بکھرنے کو ہے

یاسمین حمید

MORE BYیاسمین حمید

    دولت درد سمیٹو کہ بکھرنے کو ہے

    رات کا آخری لمحہ بھی گزرنے کو ہے

    خشت در خشت عقیدت نے بنایا جس کو

    ابر آزار اسی گھر پہ ٹھہرنے کو ہے

    کشت برباد سے تجدید وفا کر دیکھو

    اب تو دریاؤں کا پانی بھی اترنے کو ہے

    اپنی آنکھوں میں وہی عکس لیے پھرتے ہیں

    جیسے آئینۂ مقسوم سنورنے کو ہے

    جو ڈبوئے گی نہ پہنچائے گی ساحل پہ ہمیں

    اب وہی موج سمندر سے ابھرنے کو ہے

    کنج تنہائی میں کھلتا ہے تخیل میرا

    اور میں خوش ہوں کہ یہ گل پھر سے نکھرنے کو ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY