دھڑکنوں کی بس زبانی دے مجھے

مونیکا سنگھ

دھڑکنوں کی بس زبانی دے مجھے

مونیکا سنگھ

MORE BY مونیکا سنگھ

    دھڑکنوں کی بس زبانی دے مجھے

    ایک پل کو زندگانی دے مجھے

    چاہ کر جو نا مکمل ہو سکی

    وہ ادھوری سی کی کہانی دے مجھے

    ہو اگر ممکن تجھے اے زندگی

    آبشاروں سی روانی دے مجھے

    بوجھ زخموں کا لئے چلتی رہوں

    یاد کی وہ بے کرانی دے مجھے

    ہر بلندی سے بنیں راہیں نئی

    حوصلے کچھ آسمانی دے مجھے

    فخر سے کردار لکھیں گے مرا

    وقت ایسی کامرانی دے مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY