دل دھواں دینے لگے آنکھ پگھلنے لگ جائے

ذیشان اطہر

دل دھواں دینے لگے آنکھ پگھلنے لگ جائے

ذیشان اطہر

MORE BYذیشان اطہر

    دل دھواں دینے لگے آنکھ پگھلنے لگ جائے

    تم جسے دیکھ لو اک بار وہ جلنے لگ جائے

    رقص کرتی ہیں کئی روشنیاں کمرے میں

    اس کا چہرہ نہ کہیں رنگ بدلنے لگ جائے

    تیز رفتارئ دنیا نہ بدل دے معیار

    شام کے ساتھ کہیں عمر نہ ڈھلنے لگ جائے

    روشنی میں تری رفتار سے کرتا ہوں سفر

    زندگی مجھ سے کہیں تیز نہ چلنے لگ جائے

    رستا پانی بھی غنیمت ہے وہ دن دور نہیں

    روزن چشم سے جب ریت نکلنے لگ جائے

    ریگ صحرا ہے ترے جسم کے سونے کی مثال

    آنکھ پھسلے تو کبھی پاؤں پھسلنے لگ جائے

    شاخ دل کاٹ کے مٹی میں دبا دی ہم نے

    کاش ایسا ہو کہ یہ پھولنے پھلنے لگ جائے

    ہم بھی ہنگامۂ بازار جہاں سے گزرے

    جیسے ذیشانؔ کوئی نیند میں چلنے لگ جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے