دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا

محمد رفیع سودا

دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا

محمد رفیع سودا

MORE BYمحمد رفیع سودا

    دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا

    سخت مہم تھی کہ وہ سر کر گیا

    وہم غلط کار نے دل خوش کیا

    کس پہ نہ جانے وہ نظر کر گیا

    جا ہی بھڑا تجھ صف مژگاں سے یار

    دل تو مرا زور جگر کر گیا

    رات ملا تھا مجھے تنہا رقیب

    یار خدا کا ہی میں ڈر کر گیا

    فیض ترے وصف بنا گوش کا

    اپنے سخن کو تو گہر کر گیا

    دیکھ لی ساقی کی بھی دریا دلی

    لب نہ ہمارے کبھو تر کر گیا

    کیوں کے کراہوں نہ شب و روز میں

    درد مرے پہلو میں گھر کر گیا

    نفع کو پہنچا یہ تجھے دے کے دل

    جان کا اپنی میں ضرر کر گیا

    اور غزل اب کوئی سودا تو کہہ

    یہ تو یوں ہی تھی میں نظر کر گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY