دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

مومن خاں مومن

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

مومن خاں مومن

MORE BYمومن خاں مومن

    دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

    ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

    پردہ پوشی ضرور تھی اے چرخ

    کیوں شب بوالہوس سیاہ نہ کی

    تشنہ لب ایسے ہم گرے مے پر

    کہ کبھی سیر عید گاہ نہ کی

    اس کو دشمن سے کیا بچائے وہ چرخ

    جس نے تدبیر خسف ماہ نہ کی

    کون ایسا کہ اس سے پوچھے کیوں

    پرسش حال داد خواہ نہ کی

    تھا بہت شوق وصل تو نے تو

    کمی اے حسن تاب گاہ نہ کی

    عشق میں کام کچھ نہیں آتا

    گر نہ کی حرص و مال و جاہ نہ کی

    تاب کم ظرف کو کہاں تم نے

    دشمنی کی عدو سے چاہ نہ کی

    میں بھی کچھ خوش نہیں وفا کر کے

    تم نے اچھا کیا نباہ نہ کی

    محتسب یہ ستم غریبوں پر

    کبھی تنبیہ بادشاہ نہ کی

    گریہ و آہ بے اثر دونوں

    کس نے کشتی مری تباہ نہ کی

    تھا مقدر میں اس سے کم ملنا

    کیوں ملاقات گاہ گاہ نہ کی

    دیکھ دشمن کو اٹھ گیا بے دید

    میرے احوال پر نگاہ نہ کی

    مومنؔ اس ذہن بے خطا پر حیف

    فکر آمرزش گناہ نہ کی

    مآخذ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY