دل سوال کرتا ہے کوئی مہ جبیں ہے کیا
دل سوال کرتا ہے کوئی مہ جبیں ہے کیا
زخم جس سے ملتے ہیں جان کے قریں ہے کیا
پہلے روز ملتے تھے اب کبھی نہیں ملتے
ہم سے دل نشیں دل کش کوئی ہم نشیں ہے کیا
عشق سے محبت سے تم کو خوف آتا ہے
درد سے بھری دنیا اس قدر حسیں ہے کیا
ڈر تو چھوٹ جانے کا ہر کسی کو ہوتا ہے
ہم بچھڑنے والے ہیں ہو گیا یقیں ہے کیا
کیا ہوا جو ہاریں گے ان جہان والوں سے
جیت جانے والوں کی صرف یہ زمیں ہے کیا
تم انا پسند عادلؔ اور نہ کینہ پرور ہو
مل گیا خدا تم کو جھک گئی جبیں ہے کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.