میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

سلیم کوثر

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

سلیم کوثر

MORE BYسلیم کوثر

    میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

    سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے

    میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں

    میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے

    عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی

    میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے

    مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر

    تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے

    تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں

    تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے

    وہی منصفوں کی روایتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں

    مرا جرم تو کوئی اور تھا پہ مری سزا کوئی اور ہے

    کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے

    جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

    جو مری ریاضت نیم شب کو سلیمؔ صبح نہ مل سکی

    تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    سلیم کوثر

    سلیم کوثر

    مہدی حسن

    مہدی حسن

    ہری ہرن

    ہری ہرن

    رفاقت علی خان

    رفاقت علی خان

    RECITATIONS

    سلیم کوثر

    سلیم کوثر

    سلیم کوثر

    میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے سلیم کوثر

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY