ایک آنسو میں ترے غم کا احاطہ کرتے

عاصم واسطی

ایک آنسو میں ترے غم کا احاطہ کرتے

عاصم واسطی

MORE BYعاصم واسطی

    ایک آنسو میں ترے غم کا احاطہ کرتے

    عمر لگ جائے گی اس بوند کو دریا کرتے

    عشق میں جاں سے گزرنا بھی کہاں ہے مشکل

    جان دینی ہو تو عاشق نہیں سوچا کرتے

    ایک تو ہی نظر آتا ہے جدھر دیکھتا ہوں

    اور آنکھیں نہیں تھکتی ہیں تماشا کرتے

    زندگی نے ہمیں فرصت ہی نہیں دی ورنہ

    سامنے تجھ کو بٹھا بیٹھ کے دیکھا کرتے

    ہم سزاوار تماشا تھے ہمیں دیکھنا تھا

    اپنے ہی قتل کا منظر تھا مگر کیا کرتے

    اب یہی سوچتے رہتے ہیں بچھڑ کر تجھ سے

    شاید ایسے نہیں ہوتا اگر ایسا کرتے

    جو بھی ہم دیکھتے ہیں صاف نظر آ جاتا

    چشم حیرت کو اگر دیدۂ بینا کرتے

    شہر کے لوگ اب الزام تمہیں دیتے ہیں

    خود برے بن گئے عاصمؔ اسے اچھا کرتے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ایک آنسو میں ترے غم کا احاطہ کرتے نعمان شوق

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY