گئی ہے شام ابھی زخم زخم کر کے مجھے

وقار مانوی

گئی ہے شام ابھی زخم زخم کر کے مجھے

وقار مانوی

MORE BYوقار مانوی

    گئی ہے شام ابھی زخم زخم کر کے مجھے

    اب اور خواب نہیں دیکھنے سحر کے مجھے

    ہوں مطمئن کہ ہوں آسودۂ غم جاناں

    مجال کیا کہ خوشی دیکھے آنکھ بھر کے مجھے

    کہاں ملے گی بھلا اس ستم گری کی مثال

    ترس بھی کھاتا ہے مجھ پر تباہ کر کے مجھے

    میں رہ نہ جاؤں کہیں تیرا آئینہ بن کر

    یہ دیکھنا نہیں اچھا سنور سنور کے مجھے

    ان آنسوؤں سے بھلا میرا کیا بھلا ہوگا

    وہ میرے بعد جو رویا بھی یاد کر کے مجھے

    کھلا بھی اب در زنداں تو جاؤں گا میں کہاں

    کہ راستے ہی نہیں یاد اپنے گھر کے مجھے

    ہنر وری فقط اعزاز بخش کب ہے وقارؔ

    چکانے پڑتے ہیں کچھ قرض بھی ہنر کے مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY