غلط بیانی پہ اس کی یقیں دکھاتی رہی

نصرت مہدی

غلط بیانی پہ اس کی یقیں دکھاتی رہی

نصرت مہدی

MORE BYنصرت مہدی

    غلط بیانی پہ اس کی یقیں دکھاتی رہی

    میں سب سمجھتی رہی اور مسکراتی رہی

    یہ سوچ کر کہ تغافل تو اس کی فطرت ہے

    میں اپنے دل کو بڑی دیر تک مناتی رہی

    اسے تو لوٹ کے آنا ہی تھا وہ لوٹ آیا

    مگر وہ آیا تو ہاتھوں سے عمر جاتی رہی

    عجب روایتی عورت ہے زندگی میری

    ہمیشہ حسب ضرورت ہی چاہی جاتی رہی

    اسے چمن کی بہار و خزاں سے کیا مطلب

    وہ ایک بھولی سی چڑیا تھی چہچہاتی رہی

    وہ دن کہ بوجھ کڑی دھوپ میں اٹھاتا رہا

    میں رتجگوں کی تھکن اوڑھتی بچھاتی رہی

    نظر میں رہنا تھا نصرتؔ تو اس کی پلکوں سے

    تمام عمر میں گرد سفر ہٹاتی رہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY