غم کی ترتیب سلیقے سے لگا سکتا تھا

یونس تحسین

غم کی ترتیب سلیقے سے لگا سکتا تھا

یونس تحسین

MORE BYیونس تحسین

    غم کی ترتیب سلیقے سے لگا سکتا تھا

    یعنی میں روز ترا ہجر منا سکتا تھا

    صبر نے چیخ گلے سے نہیں آگے بھیجی

    ورنہ دیوانہ بہت شور مچا سکتا تھا

    غیرت عشق نے پتھر کا بنایا مجھ کو

    ورنہ میں خاک وہاں اڑ کے بھی جا سکتا تھا

    تنگیٔ دامن صد چاک ترا کیا رونا

    میں نمائش میں فقط زخم دکھا سکتا تھا

    تیری نفرت سے اگر تھوڑی سی فرصت ملتی

    میں محبت میں بہت نام کما سکتا تھا

    آپ بیکار سمجھ کر جسے چھوڑ آئے ہیں

    اک وہی شخص مری جان بچا سکتا تھا

    اس کی معصوم طبیعت کی حیا نے روکا

    ورنہ میں اس کو بڑے خواب دکھا سکتا تھا

    یہ تو اس چہرۂ پر نور کا جادو سمجھو

    ورنہ درویش کہاں جال میں آ سکتا تھا

    یوں ہی زحمت سے اکیلے مجھے برباد کیا

    زندگانی میں ترا ہاتھ بٹا سکتا تھا

    تم ہی تحسینؔ مری قدر نہیں کر پائے

    میں تو وہ تھا جو گیا وقت بھی لا سکتا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY