غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں

تاباں عبد الحی

غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں

تاباں عبد الحی

MORE BY تاباں عبد الحی

    غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں

    چاہنے والے کو ہوتا بھی ہے آرام کہیں

    وصل ہو وصل الٰہی کہ مجھے تاب نہیں

    دور ہوں دور مرے ہجر کے ایام کہیں

    لگ رہی ہیں ترے عاشق کی جو آنکھیں چھت سے

    تج کو دیکھا تھا مگر ان نے لب بام کہیں

    عاشقوں کے بھی لڑانے کی تجھے کیا ڈھب ہے

    چشم بازی ہے کہیں بوسہ و پیغام کہیں

    یمنی کی سی طرح لخت جگر پر کھودوں

    مج کو معلوم اگر ہووے ترا نام کہیں

    ہجر میں اس بت کافر کے تڑپتے ہیں پڑے

    اہل زنار کہیں صاحب اسلام کہیں

    آرزو ہے مرے تاباںؔ کو بھی اب اے قاتل

    کہ بر آئے ترے ہاتھوں سے مرا کام کہیں

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY