گر شور ہے دل میں بھرا تو خامشی اچھی نہیں

صاحب شریہ

گر شور ہے دل میں بھرا تو خامشی اچھی نہیں

صاحب شریہ

MORE BYصاحب شریہ

    گر شور ہے دل میں بھرا تو خامشی اچھی نہیں

    جو غیر ہاتھوں میں پھنسی وہ زندگی اچھی نہیں

    اک بار کی ہی ہار ہے اس کو نہ دل سے تو لگا

    یوں زندگی سے ہار کر پھر خودکشی اچھی نہیں

    جو دوست بن سج جائے وہ محفل نہیں محفل کوئی

    یعنی اکیلے جشن کی کوئی خوشی اچھی نہیں

    گر جسم کی ہی چاہ ہے اس کو محبت کیوں کہیں

    نوچے ہوس میں جو بدن وہ تشنگی اچھی نہیں

    محبوب کی آنکھیں اگر کرتی نہیں مدہوش تو

    پھر چھوڑ دو یہ مے کشی یہ مے کشی اچھی نہیں

    جو ہاتھ تھاما ہے مرا تو با وفا رہنا سدا

    جو بے وفا ہو جاؤ تو پھر تم سکھی اچھی نہیں

    کیسے خوشی اس کو کہوں جو چشم تیری نم کرے

    اوروں کے غم کا ہو سبب وہ سر خوشی اچھی نہیں

    صاحب جو کچھ بھی تم کرو تو فخر کے قابل کرو

    دنیا کے آگے باپ کی نظریں جھکی اچھی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے