غزل کہنے کا کس کو ڈھب رہا ہے

مصحفی غلام ہمدانی

غزل کہنے کا کس کو ڈھب رہا ہے

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    غزل کہنے کا کس کو ڈھب رہا ہے

    وہ رتبہ عشق کا اب کب رہا ہے

    بشاشت برگ گل میں ہے جو اتنی

    کسی کے لب پر اس کا لب رہا ہے

    مشوش شکل سے اس گل کی ظاہر

    یہ ہوتا ہے کہیں وہ شب رہا ہے

    پرستش ہی میں شب آخر ہوئی ہے

    ہمارے پاس وہ بت جب رہا ہے

    تمہارے عہد میں اے کافرو ہائے

    کہاں وہ ملت و مذہب رہا ہے

    مرا زانو ترے زانو کے نیچے

    اٹھوں کیوں کر کہ کافر دب رہا ہے

    اسے کب ناز بستاں کی ہوس ہے

    یہ دل نت کشتۂ غبغب رہا ہے

    موئے جز میرؔ جو تھے فن کے استاد

    یہی اک ریختہ گو اب رہا ہے

    نت اس کی مصحفیؔ کھاتا ہوں دشنام

    یہی تو میرا اب منصب رہا ہے

    مآخذ
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(Vol-4)(pdf) (Pg. 304)
    • Author : Ghulam hamdani Mashafi
    • مطبع : Qaumi council baraye -farogh urdu (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY