گھر کے فرد اپنے گھر کو بھول گئے

نہال رضوی

گھر کے فرد اپنے گھر کو بھول گئے

نہال رضوی

MORE BYنہال رضوی

    گھر کے فرد اپنے گھر کو بھول گئے

    ہم سفر ہم سفر کو بھول گئے

    تھی نہ پہچان کچھ بھی جن کے بغیر

    لوگ انہیں بام و در کو بھول گئے

    بارہا عشق میں فریب ملا

    بارہا درد سر کو بھول گئے

    ترشیوں کو لگا کے منہ ہم لوگ

    لطف شیر و شکر کو بھول گئے

    غیر پر منحصر ہوئے جب ہم

    اپنے دست ہنر کو بھول گئے

    پھیر میں جب سے پتھروں کے پڑے

    شیشہ گر شیشہ گر کو بھول گئے

    نظروں والے بھی ہو گئے روپوش

    ہم بھی اہل نظر کو بھول گئے

    ہم سے قربت بڑھا کے طائر بھی

    مصرف بال و پر کو بھول گئے

    اس قدر پیچ و خم ملے کے نہالؔ

    ہم رہ معتبر کو بھول گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY