اپنے ماحول سے تھے قیس کے رشتے کیا کیا

احمد ندیم قاسمی

اپنے ماحول سے تھے قیس کے رشتے کیا کیا

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    اپنے ماحول سے تھے قیس کے رشتے کیا کیا

    دشت میں آج بھی اٹھتے ہیں بگولے کیا کیا

    عشق معیار وفا کو نہیں کرتا نیلام

    ورنہ ادراک نے دکھلائے تھے رستے کیا کیا

    یہ الگ بات کہ برسے نہیں گرجے تو بہت

    ورنہ بادل مرے صحراؤں پہ امڈے کیا کیا

    آگ بھڑکی تو در و بام ہوئے راکھ کے ڈھیر

    اور دیتے رہے احباب دلاسے کیا کیا

    لوگ اشیا کی طرح بک گئے اشیا کے لیے

    سر بازار تماشے نظر آئے کیا کیا

    لفظ کس شان سے تخلیق ہوا تھا لیکن

    اس کا مفہوم بدلتے رہے نقطے کیا کیا

    اک کرن تک بھی نہ پہنچی مرے باطن میں ندیمؔ

    سر افلاک دمکتے رہے تارے کیا کیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    اپنے ماحول سے تھے قیس کے رشتے کیا کیا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے