بیٹھے ہیں جہاں ساقی پیمانۂ زر لے کر

علی سردار جعفری

بیٹھے ہیں جہاں ساقی پیمانۂ زر لے کر

علی سردار جعفری

MORE BYعلی سردار جعفری

    بیٹھے ہیں جہاں ساقی پیمانۂ زر لے کر

    اس بزم سے اٹھ آئے ہم دیدۂ تر لے کر

    یادوں سے تری روشن محراب شب ہجراں

    ڈھونڈھیں گے تجھے کب تک قندیل قمر لے کر

    کیا حسن ہے دنیا میں کیا لطف ہے جینے میں

    دیکھے تو کوئی میرا انداز نظر لے کر

    ہوتی ہے زمانے میں کس طرح پذیرائی

    نکلو تو ذرا گھر سے اک ذوق سفر لے کر

    راہیں چمک اٹھیں گی خورشید کی مشعل سے

    ہم راہ صبا ہوگی خوشبوئے سحر لے کر

    مخمل سی بچھا دیں گے قدموں کے تلے ساحل

    دریا ابل آئیں گے صد موج گہر لے کر

    پنہائیں گے تاج اپنا پیڑوں کے گھنے سائے

    نکلیں گے شجر اپنے خوش رنگ ثمر لے کر

    لپکیں گے گلے ملنے سرو اور صنوبر سب

    اٹھیں گے گلستاں بھی شاخ گل تر لے کر

    ہنستے ہوئے شہروں کی آواز بلائے گی

    لب جام کے چمکیں گے سو شعلۂ تر لے کر

    افلاک بجائیں گے ساز اپنے ستاروں کا

    گائیں گے بہت لمحے انفاس شرر لے کر

    یہ عالم خاکی اک سیارۂ روشن ہے

    افلاک سے ٹکرا دو تقدیر بشر لے کر

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Ali Sardar Jafri Vol.II (Pg. 360)
    • Author : Ali Ahmad Fatmi
    • مطبع : Qaumi Council Baray-e-farog Urdu Zaban, New Delhi (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے